اہل حق کا قافلہ:
حق کی اشاعت اور اسکی ترویج کے لئے جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ضرور ہوئی ہیں۔خواہ ان کا مقصد لوگوں کو ظلم و ستم اور جبر کو دور سے نکالنا ہو یا خدائے وحدہ لا شریک کے پیغام کو عام کرنے کی سعی ہو۔
حق کی پہلی آواز مکہ کے قریب کی پہاڑی پر سے عربوں کے درمیان ہی سے ایک شخصیت نے کی اٹھائی اور کئی حق شناساوں نے اس آوز پر لبیک کہا
یہ سلسہ یوں ہی چلتا رہا ہے اور حق کی اشاعت کا کام خلفاء کے زمے ہوا جنہوں نے اپنی زمہ داریاں احسن انداز سےنبھائی۔
راستہ پر کٹھن تھا مصائب سے بھرا ہوا تھا تکالیف سے دامن چھڑانا آسان نہ تھا لیکن ان سب کے مقابلے میں بندہ مومن کا توکل علی اللہ اور صبر بہت ہی مددگار ثابت ہوا۔
کچھ دور گزرنے کے بعد وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں اعلائے کملۃ حق کی صدائیں بلند کرنی تھیں وہ اپنے فرائض میں غفلت برتنے لگے اور ان لوگوں کی تعداد کم ہونے لگی جو حقیقتا اپنی زندگی کا محور رضائے الہی کا حصول سمجھتے تھے
تعداد کم سہی لیکن ختم تو نہی ہوئی تھی ،انگریزی استعمار کے خلاف آوازیں بلند کرنے والے بھی یہی لوگ تھے اور صداقت کی ترویج بھی یہی لوگ کر رہے تھے ۔کیا خوب کہا :
جن کے ہاتھوں میں صداقت کے علم ہوتےہیں
طے شدہ بات ہے تعداد میں کم ہوتے ہیں
اس جدید دور میں بھی وہ لوگ موجود ہیں جو حق کے لئے صدا اٹھاتے ہیں
یہ بلاگ بھی ایسے خیالات کو ایک جگہ جمع کرنے کے لئے بنایا گیا ہے کہ جو حق کی اشاعت میں کچھ فائدہ مند ہوں۔
اللہ تعالی سبھی کاوشوں کو قبول فرمائے
